20 مارچ کو بریشیا عدالت نے28 سالہ پاکستانی کو جرم ثابت ہونے پر 3 سال 10 ماہ کی سزا سنا دی۔

20 مارچ کو بریشیا عدالت نے28 سالہ پاکستانی کو جرم ثابت ہونے پر 3 سال 10 ماہ کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق مجرم پہ الزام تھا کہ مجرم نے جعلی دستاویزات کی مدد سے لوگوں کو پرمیسو دی سجورنو اور بیروزگاری الاؤنس لیکر دیا۔عدالت نے مجرم کا بیان مسترد کرتے ہوئے الزامات ثابت ہونے پر 3 سال 10 ماہ کی سزا سنا دی۔اس کیس پر تفتیش کا آغاز

INPS کی جانب سے لینو کی ایک کمپنی پہ شک کی بنیاد پہ کیا گیا۔ادارے کے مطابق کمپنی جعلی نام سے بنائی گئی اور سن 2012 اور 2014 کے درمیان غیرملکیوں کو پبلسٹی کرنے کے کنٹریکٹ دیے گئے۔دوران انکوائری معلوم ہوا کہ اس کمپنی نے دوسری کمپنیوں کے نام سے جعلی رسیدیں بھی بنائیں ۔مجرم ہر فائل کا 800 یورو وصول کرتا تھا اورINPS کو بیروزگاری الاؤنس کی مد میں ہزاروں یورو کا نقصان ہوا۔

انکوائری میں یہ بھی معلوم ہوا کہ مجرم کسی پرائیویٹ دفتر میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کرتا تھا جہاں اسکی ذمہ داری کلائینٹ تلاش کرنا تھی ۔لیکن اسکے دفتر والوں نے اسکے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

پولیس نے 15 غیرملکیوں کی اس کمپنی کے کنٹریکٹ پر جاری ہونے والی پرمیسو دی سجورنو کینسل کر دی ہیں ،مزید 7 سجورنو جاری ہونے سے روک دی گئی ہیں ۔

یہ سب الزامات ثابت ہونے پر مجرم کو سزا سنا دی گئی ۔