یکم جنوری سے 22 مارچ تک 292 افراد کو ملک چھوڑنے کا حکم

23مارچ کو بریشیا پولیس اسٹیشن کے امیگریشن آفس میں پناہ گزینوں کے بارے میں میٹنگ ہوئی۔اس میٹنگ میں بتایا گیا کہ چونکہ اٹلی اور یونان یورپ میں داخلے کا مرکز ہیں اسلیے لوگ یہاں داخل ہونے کے بعد پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔مزید اس بات پہ بھی بحث ہوئی کہ پناہ حاصل کرنے والے باشندوں کے رشتہ دار اگر باقی یورپ کے کسی ملک میں بھی رہائش پذیر ہیں تو انہیں ان تمام ملکوں میں جانے کی اجازت دی جائے۔

بریشیا سے 34 شامی ،ایریٹیریا اور عراقی باشندوں کو یورپ کے باقی ملکوں میں جانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا کہ 2800 افراد نے پناہ کے لیے درخواست دی تھی جن میں سے بہت کم ایسے ہیں جن کو واقعی پناہ کی ضرورت ہے۔پولیس اسٹیشن ذرائع کے مطابق تقریباً 70 فیصد درخواستیں مسترد ہو جاتی ہیں ۔یکم جنوری سے 22 مارچ تک 292 افراد کو ملک چھوڑنے کا حکم بھی جاری ہو چکا ہے۔جبکہ 162 افراد کو 28 اپریل پولیس اسٹیشن بریشیا پیش ہونے کا حکم جاری ہوا ہے۔